ناپاک چیزیں
آدمی کا پیشاب وپاخانہ ،جس جانورکا گوشت حرام ہے اس کا پیشاب وپاخانہ، سارے درندہ جانور سوائے ایسے جانوروں کے جن سے بچنا مشکل ہے،جیسے:بلی،خچر اور گدھا۔
بہتا ہوا خون جوجانور ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، پیشاب و پاخانہ کے راستے سے نکلنے والا خون ، مردار چیزیں سوائے مردہ آدمی کےاور اس مردار کے جس میں بہتا ہوا خون نہ ہو اور سمندر کے مردار اور ٹڈی کے۔
چھٹی شرط: ستر پوشی کرنا
ستر پوشی کی تین قسمیں ہیں:
ستر مخففہ
سات سے دس سال کے لڑکے کا ستر دونوں شرم گاہ ہیں۔لہذاان دونوں کو چھپانا ضروری ہے۔
ستر مغلظہ
آزاد اور بالغ عورت کاستر پورا بدن ہے ،سوائے چہرہ کے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے اس کوبھی چھپانا ضروری ہے۔
ستر متوسطہ
ان دونوں قسموں کے علاوہ کا ستر ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ہے۔
دونوں کندھوں کا چھپانا اور زیب وزینت اختیار کرنا بھی مستحب ہے۔
ساتویں شرط:وقت کا داخل ہونا
چنانچہ نماز نہ تو وقت سے پہلے درست ہوگی اور نہ ہی بعد میں،سوائے شرعی عذر کے ،جیسے،دونمازوں کو جمع (اکٹھی )کرنا۔لیکن اگر نماز کوجان بوجھ کر اس کے مقررہ وقت سے مؤخر کرے تو گنہگار ہوگا۔
آٹھویں شرط:قبلہ کی طرف رخ کرنا
اس شرط سے حالت سفر کی نفلی نمازمستثنی ہے،لہذا وہ اسی جانب ہوکر نماز ادا کرے گاجس جانب سواری کا رخ ہوگا۔ہوائی جہاز میں نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔اسی طرح اس شرط سے وہ لوگ بھی مستثنی ہیں جو استقبال قبلہ سے عاجز ہوں یا دشمن کا خوف انہیں لاحق ہو۔
نویں شرط: نیت کرنا
نیت دل کے ارادے کانام ہے اور زبان سے اس کی ادائیگی بدعت ہے۔اگرنیت نماز سے تھوڑی دیرپہلے کرلے یا صرف اس وقت کے فرض نماز کی نیت کرے تو بھی نماز درست ہوگی۔
اہم تنبیہات
۱۔شرط کے چھوڑنےمیں جہالت اور نسیان عذر نہیں ہے ،لیکن اگرنماز اس حالت میں اداکرے کہ جہالت یا نسیان کی وجہ سے اس میں نجاست باقی تھی تو نماز درست ہوگی ؛اس لیے کہ اس کاتعلق ترک سے ہے فعل سے نہیں۔
۲۔شرائط کا تعلق خارج عبادت سے ہوتاہے اوروہ عبادت سے پہلے انجام دیا جاتا ہے،لیکن آخر عبادت تک اس کا پایا جانا ضروری ہے۔