مریض کے لیے روزے کے احکام ومسائل
دائمی مریض: (جس کی شفایابی کی امید نہ ہو)
اور وہ عمر رسیدہ شخص جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو، اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے ، البتہ ہردن کے بدلے ایک مسکین کو کھلائے،ا س کا طریقہ یہ ہے کہ دنوں کی گنتی کے مطابق یا تو مساکین کو ایک ساتھ جمع کرکے کھلادے، یا پھر اشیاء خوردونوش کو ان مساکین پر تقسیم کردے، اور ہر مسکین کو نصف صاع غلہ دے،جس كا وزن بعض علماء کے نزديك سوا كيلو،اورشيخ ابن بازرحمہ اللہ کےنزديك تقريبا ڈيڑھ کیلو ہے، اور بہتر یہ ہے کہ اس کے ساتھ سالن بنانے کی چیزیں جیسے:گوشت اور تیل وغیرہ بھی دے دے۔
وقتی مریض:( جس کی شفایابی کی امیدتو ہو لیکن اس کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو)
اسی زمرے میں حیض ونفاس اوردودھ پلانے والی عورتیں اورمسافر بھی شامل ہیں ،لیکن جب شفایاب ہوجائیں تو چھوڑے گئے روزہ کی قضا کریں۔اور اگر شفا یابی ملنے سے پہلے ان کی موت ہوجائے تو ان سے روزہ ساقط (معاف ) ہوجائے گا۔
ماہ رمضان کی آمدکا علم کیسےہو گا؟
رمضان کا چاند دیکھ کر یا شعبان کے تیس دن مکمل کرکے۔
روزے کو باطل کردینے والی چیزیں
۱۔جان بوجھ کر کھانا یا پینا:لیکن کسی نے بھول کرکھاپی لیا تو اس کا روزہ صحیح ہوگا۔
۲۔ہمبستری کرنا: اگر کسی ایسے شخص نے جس پر روزہ واجب ہے دن کے وقت ہمبستری کرلی تو اس پر کفارہ مغلظہ ادا کرنا لازم آئےگا ،اور کفارہ یہ ہےکہ ایک غلام آزاد کرے،اگر غلام نہ پائے تو لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے،اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔
۳۔منی نکالنا : بیوی سے مل کے خواہ بوس وکنارکرکے، یااسے باہوںمیں بھر کے، یا اسی جیسی کوئی حرکت کرکے، يا مشت زنى کرکے، یا اسی جیسی کوئی حرکت کرکے،
۴۔جو کچھ بھی خوردو نوش کے معنی میں ہو،جیسے:غذا فراہم کرنےوالا انجکشن (طاقت والا انجکشن)اس کے علاوہ دوسرے انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
۵۔حجامہ(پچھنا)کے ذریعے خون نکلوانا،البتہ جانچ وغیرہ کے لیے تھوڑی مقدار میں خون نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
۶۔جان بوجھ کر قے کرنا۔
۷۔حیض اور نفاس کا خون آنا۔