حج
یہ اسلام کا پانچواں رکن ہے،اور یہ عاقل ،بالغ ،آزاد اور صاحب استطاعت مسلمان پر واجب ہے،اورعورت کےلیے ایک اضافی شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ اس کا محرم بھی ہو۔
- احرام حج یا عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کو احرام کہتے ہیں۔ تلبیہ پڑھنا ، اور چادر وتہہ بند پہننا احرام کی نیت میں داخل نہیں ہیں۔
- وقوف عرفہ اس کا وقت نویں ذی الحجہ کے زوال شمس سے عید کے دن طلوع فجر تک ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: الحجُّ عرفة حج وقوف عرفہ کا نام ہے۔
- طواف افاضہ (طواف زیارت) یہ طواف، وقوف عرفہ کے بعد کیا جاتا ہے،اور یہ طواف، طواف قدوم کے علاوہ ہے۔
- سعی جو کہ صفا اور مروہ کے درمیان کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔
حج کی قسمیں
- یہ ہے کہ صرف حج کی نیت کرے اور اس کے اعمال کو پورا کرے۔ افراد
- قران یہ ہے کہ حج اور عمرے کی نیت ایک ساتھ کرے، دونوں کے اعمال کو علیحدہ انجام دے اور قربانی بھی کرے۔
- تمتع یہ ہےکہ حج کے مہینہ میں عمرہ کے لیے نیت کرے پھر اسے مکمل کرے اور اس سے فارغ ہو جائے ، پھر اسی سال حج کی نیت کرے ۔اس میں بھی قربانی کرے۔
حج کے واجبات
جوشخص واجباتِ حج میں سے کسی واجب کو چھوڑ دے تو اس کی تلافی کے لیے اس کو ایک دم دینا واجب ہے۔اوردم یہ ہے کہ ایک بکری حدود حرم میں ذبح کرے اور فقرا میں تقسیم کرے ، اس میں سے خود نہ کھائے۔
حج کے مستحب امور
| مردوں کے لیے سفید رنگ کی چادر اور تہہ بند | احرام کے لیے غسل کرنا اور خوشبو لگانا |
| احرام کے وقت سے جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے تک تلبیہ پڑھنا۔ | ناخن تراشنا اور ان بالوں کو نکالناجن کانکالنا احرام کی نیت سے پہلے ضروری ہے۔ |
| طواف قدوم اورحج تمتع کرنے والے کے لیے طواف عمرہ میں پہلے تین چکر میں رمل کرنا، اوردلکی چال کو رمل کہتے ہیں۔ | حج افراد اور قران کرنے والے کا طواف قدوم کرنا۔ |
| مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نماز کو جمع تاخیر کےساتھ پڑھنا۔ | حج تمتع کرنے والےکے لیے طواف قدوم اور طواف عمرہ میں اضطباع کرنا یعنی دائیں کندھے کو کھول لینا ہے[یہ صرف مردوں کے لیے ہے] |
| حجر اسود کو چومنا۔ | عرفہ کی رات منی میں گزارنا. |
وقت فجر سے اندھیرا چھٹنے تک مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ٹھہرنا، اور مزدلفہ کا میدان پورا کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
احرام کی حالت میں جن چیزوں سے بچنا ضروری ہے
یہ نو ہیں:سر اور جسم سے بال نکالنا،ناخن تراشنا،مرد کا سر ڈھانپنا،مردکا سلا ہوا کپڑا پہننا ، (وہ کپڑا جسے جسم پر یا جسم کے کسی حصے کے سائز کے مطابق سلا جائے)عورت کا نقاب اوردستانہ پہننا، خوشبو لگانا، خشکی کے جانور کا قتل کرنا اور اس کا شکار کرنا،اپنا نکاح کرنا یا کسی کا نکاح کروانا،ہمبستری کرنا،بغیر وطى کے بیوی سے ملنا۔
جس نے بھی ان محظورات میں سے بھول کر ،یا جہالت کی وجہ سے یا مجبوری کی حالت میں انجام دیا تو شریعت کی جانب سے ایسے شخص پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔البتہ شکار کرنے والے کے اوپر مطلق طور پر فدیہ ہے، جان بوجھ کر محظورات حج میں سے کسی کے بھی ارتکاب کی صورت میں، ان محظورات کی چار قسمیں ہیں:
| جس کا فدیہ ، فدیہ اذی ہے یہ فدیہ باقی محظورات کے لیے ہے،اور اس فدیہ میں درج ذیل اختیار حاصل ہے: -تین دن کےروزے رکھنا۔ -یا چھ مسکین کو کھانا کھلانا، جس کی مقدار ہر مسکین کے لیے نصف صاع مقررہے۔ ۔یا ایک بکری ذبح کرنا ، جس کا گوشت فقراء حرم کے درمیان تقسیم کرنا۔ | جس کا فدیہ مغلظہ ہے یہ فدیہ بیوی سے ہمبستری کی صورت میں لازم آتی ہے،البتہ جس نے تحلل اول سے پہلے جماع کیا ہوتو اس کا حج فاسد ہو جائے گا،اور فاسد ہونے کے باوجود اس حج کو مکمل کرناہو گا ،پھر اس حج کا دوبارہ ادا کرنا بھی لازم ہوگا اور اس پر قربانی کرنا بھی واجب ہے۔ | جس کا فدیہ اسی فعل کے مثل ہے یہ فدیہ خشکی کے جانور کو قتل کرنے اور اس کا شکار کرنے کی صورت میں ہے،اور جس نے اس کو قتل کیا اس پر مطلق طور پر فدیہ ہے، یہ فدیہ مساوی ہوگا اس جانورکے جس کو اس نے قتل کیا،جس کا فیصلہ دو معتبر شخص کریں گے۔ | جس میں کوئی فدیہ نہیں اپنا نکاح کرنا یا کسی کا نکاح کروانا،اسی طرح بغیر ہمبستری کے بیوی سے ملنا بشرطیکہ منی کا خروج نہ ہوا ہو ، ایسی صورتوں میں کوئی کفارہ نہیں بلکہ توبہ ہے۔ |
حج کے دنوں کا نام
یوم الترویہ [ترویہ کادن]
آٹھواں دن۔ اس دن لوگ منی کی جانب پانی لے جاتے تھے۔
یوم عرفہ عرفہ میں ٹھہرنے کا دن۔
یوم العید ویوم النحر عید کا دن اور قربانی کا دن۔ یہ ذی الحجہ کا دسواں دن ہے۔
یوم القر [ٹھہرنے کادن]یہ ذی الحجہ کا گیارہواں دن ہے۔
یوم النفرالاول [منی سےنکلنے کاپہلا دن] یہ ذی الحجہ کا بارہواں دن ہے۔
یوم النفر الثانی [منی سے نکلنے کا دوسرادن] یہ ذی الحجہ کا تیرہواں دن ہے۔
حج میں دعا کرنے کے پانچ مقامات ہیں
- میدان عرفہ میں نویں ذی الحجہ کے دن زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک ۔
- مزدلفہ میں دس تاریخ کی رات فجر سے لے کر اجالا ہونے تک۔
- ایام تشریق میں چھوٹے اور درمیانی جمرہ کو کنکری مارنے کے بعد۔
- دوران طواف۔
- دوران سعی صفا اور مروہ پر، اور ان دونوں کے درمیان میں۔